دیوانی[1]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - دیوانہ کی تانیث، دماغی مریض کی ایک کیفیت جس سے حواس میں خلل واقع ہو جاتا ہے۔  کوئی سودائی تو ہے یا کوئی دیوانی ہے اس بلا خیر تلاطم میں کہاں آئی ہے      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٧٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دیوانہ' کی 'ی' حذف کے 'ی' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے بنا۔ اردو میں صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٥٦٤ء سے "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: دِیوانہ
جنس: مؤنث